8 جنوری 2014 - 20:30
امام حسن عسکری (ع) کی زندگی کا مختصر جائزہ

نواسہ رسول حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شب شہادت کے موقع پر دارالحکومت تھران سمیت ایران کے چھوٹے بڑے شہروں میں امام بارگارہوں میں مجالس عزا کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے.

حضرت امام حسن عسکری (ع) آٹھ ربیع الثانی 232 ہجری بروز جمعہ مدینہ میں پیدا ہوئے آپ  آسمان امامت و ولایت  اور خاندان وحی و نبوت کے  گیارہويں چشم و چراغ ہیں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا مقابلہ بھی اپنے اجداد طاہرین کی طرح اس وقت کے ظالم و جابر و غاصب وعیار و مکار عباسی خلفا سے تھا ۔ آپ کی مثال اس دور میں ایسی ہی تھی جس طرح ظلم و استبداد کی سیاہ آنداھیوں میں ایک روشن چراغ کی ہوتی ہے ۔آپ مہتدیوں اور معتمدوں کی دروغگوئی ، فریب ، سرکشی کے دور میں گم گشتہ افراد کی ہدایت کرتے رہے ۔آپ کی امامت کے دور میں عباسی خلفاء کے ظلم و استبداد کے محلوں کو گرانے کے بہت سے اہم اور تاریخی واقعات رونما ہوئے جو براہ راست امام (ع) کی ہدایات پر مبنی تھے ان میں سے مصر میں احمد بن طولون کی حکومت کا قیام ، بنی عباس کے ظلم و ستم کے خلاف حسن بن زید علوی کی درخشاں خونچکان تحریک اور آخر کار حسن بن زید کے ہاتھوں طبرستان کی فتح اور صاحب الزنج کا عظیم جشن اس دور کے اہم واقعات میں شامل ہے ۔اس کے علاوہ مخفیانہ طور سے جو ارتباط امام علیہ السلام سے برقرار کئے جاتے تھے اس کی وجہ سے حکومت نے اس باب ہدایت کو بند کرنے کے لئے چند پروگرام بنائے ۔ پہلے تو امام کو عسکر چھاؤنی میں فوجیوں کی حراست میں دے دیا ۔ دوسرے مہتدی عباسی نے اپنے استبدادی اور ظالمانہ نظام حکومت پر نظر ثانی کی اور گھٹن کے ماحول کو بہ نسبت آزاد فضا میں تبدیل کیا اور نام نہاد ، مقدس مآب ، زرخرید ملّا عبدالعزیز اموی کی دیوان مظالم   کے نام سے ریا کاری پر مبنی ایک ایسی عدالت تشکیل دی جہاں ھفتے میں ایک دن عوام آکر حکومت کے کارندوں کے ظلم و ستم کی شکایت کرتے تھے ۔ لیکن اس ظاہری اور نام نہاد عدالت کا درحقیقت مسلمانوں پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ روز بروز امام حسن عسکری علیہ السلام کی طرف مسلمانوں کا حلقہ  وسیع  سے  وسیع تر  ہوتا  چلاگیا اور چاروں طرف  سے حریت پسند مسلمانوں کی تحریک سے بنی عباس کی حکومت کی بنیادیں ہلنے لگیں اور عوام کی سیل آسا تحریک سے بنی عباس کی حکومت کے زوال کے خوف سے بنی عباس نے عوام میں اپنی مقبولیت پیدا کرنے کے لئے پروگرام بنایا کہ پہلے تو مال و دولت کو عوام کے درمیان تقسیم کیا جائے تا کہ لوگوں کی سرکشی کم ہو اور عوام کو خرید کر ایسا ماحول بنادیا جائے کہ جس سے امام حسن عسکری علیہ السلام کو شہید کرنے میں آسانی ہو ۔تاریخ شاہد ہے کہ تمام دنیا کے جابر وظالم حکمرانوں کا یہ دستور رہاہے کہ جب بھی ان کے استبداد کے خلاف کسی نے آواز اٹھائی تو انہوں نے اس بات کی کوشش کی کہ جلد سے جلد اس آواز کو خاموش کردیں اگرچہ شاید ان کو یہ معلوم نہیں کہ آنے والی نسل میں ان کے لئے سوائے رسوائی مذمت کے کچھ نہیں ہوگا اور ان کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی دنیا نہ صرف یہ کہ حمایت کرے گی بلکہ ان بزرگون کو عظمت کی نگاہ سے دیکھی گی اور ان مظلوموں کی زندگی کے نقش قدم پر چل کر فخر کرے گی امام حسن عسکری (ع) نے بھی ہمیشہ اپنے اجداد کی طرح دین اسلام کی حفاظت اور پاسداری میں اپنی زندگی کے گرانقدر لمحات کو صرف کیا اور دین کی حمایت کرتے رہے اگرچہ دین کی حمایت اور عوام کی خدمت عباسی حکمرانوں کے لئے کبھی بھی خوش آئند نہیں رہی لیکن خداوند متعال نے اپنی آخری حجت اور دین اسلام کے ناصر حضرت امام مہدی (ع)  کو امام حسن عسکری کے گھر میں بھیج کر واضح کردیا ہے کہ دین اسلام کے اصلی مالک و وارث اہلبیت رسول (‏ع)  ہی ہیں-============حضرت امام حسن عسکري کي امامت کا دورحضرت امام حسن عسکري کي  مجموعي عمر کا 29 سالہ دورانيہ تين ادوار ميں تقسيم کيا جاتا ہے -  پہلا دور بچپن کے وہ تيرہ سال ہيں جو انہوں نے  مدينہ ميں گزارے - دوسرا دور انہوں نے امامت سے قبل سامرا ميں گزارا -  تيسرا دور ان کي  امامت والے  6 سال ہيں -  ان چھ سالوں ميں حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات  اچھے نہ تھے  - اس وقت وہاں پر خليفہ ہارون کي تقليد کرنے والے  اپني ظاہري طاقت کا مظاہرہ کرتے  مگر امام ہميشہ باطل کے مقابلے کے ليۓ ميدان عمل ميں کارفرما رہے -  اپني امامت کے چھ سالوں ميں سے تين سال امام عليہ السلام  قيد ميں رہے - قيد خانے کے انـچارج نے دو ظالم غلاموں  کو مقرر کر رکھا تھا کہ  آنحضرت  عليہ السلام کو  آزار پہنچائيں   ليکن جب ان دو غلاموں نے امام عليہ السلام کے حسن سلوک اور سيرت کو  نزديک سے ديکھا تو وہ امام کے  گرويدہ ہو گۓ -جب ان غلاموں سے امام حسن عسکري کا حال پوچھا جاتا تو وہ بتاتے کہ يہ قيدي  دن کو روزہ رکھتا ہے اور شب بھر  اپنے معبود کي عبادت کرنے ميں مصروف رہتا ہے  اور کسي سے بھي بات چيت نہيں کرتا ہے- عباسي خاندان کا ايک مغرور وزير بنام عبيداللہ  خاقان جب بھي ملاقات کے ليۓ امام کے سامنے  آتا تو وہ احترام کے طور پر اپني جگہ سے کھڑا ہو جايا کرتا اور  امام حسن عسکري کو اپني جگہ پر بٹھايا کرتا تھا -  وہ ہميشہ يہ کہتا تھا کہ سامرہ  ميں کسي کو بھي ميں نے ان جيسا نہيں پايا ہے -  وہ ( امام حسن عسکري )  اس دور کے  زاہد ترين انسان ہيں -عبيداللہ  خاقان کا بيٹا کہا کرتا کہ ميں لوگوں سے ہميشہ امام حسن عسکري کے  بارے ميں پوچھتا رہتا تھا - مجھے ہميشہ اس بات کا احساس ہوتا کہ لوگوں کے دلوں ميں حضرت امام حسن عسکري کے ليۓ احترام اور محبت پا‏ئي جاتي  تھي  - امام حسن عسکري  اپنے خاص شيعوں سے ملا کرتے تھے مگر پھر بھي  عباسي  خليفہ اپني حکومت کو تحفظ دينے کے ليۓ زيادہ تر ان پر نظر رکھتا اور انہیں قيد ميں رکھ کر عام لوگوں سے ملاقات سے روک ديتا -

.......

/169